24 جون 2012 - 19:30

کینیا کے نائیروبی اور موباسا شہروں میں حالیہ دنوں میں متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں۔ ان بم دھماکوں کے بعد جمعے کے دن کینیا کی پولیس نے بقول اس کے دو ایرانی نژاد افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن کے قبضے سے کیمیاوی مواد برآمد ہوا ہے۔ پولیس کے بقول اس مواد کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس سلسلے میں کی جانے والی تشہیراتی مہم کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کی گرفتاری کا دعوی کیا گيا ہے ابھی تک ایران کے لۓ ان کا تشخص واضح نہیں ہوا ہے اور نائروبی میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کا سفارت خانہ اس سلسلے میں تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ 
نائیروبی کے پولیس چیف نے کہا ہے کہ پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق دہشتگرد گروہوں خاص کر الشباب یا القا‏عدہ کے ساتھ ہے یانہیں۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ امریکہ کی پولیس ایف بی آئی نے دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے سلسلے میں مشتبہ افراد کی شناخت اور ان کی گرفتاری کے لۓ تعاون شروع کردیا ہے۔ 
اس مسئلے میں پائے جانے والے ابہامات کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اگرچہ گرفتار شدہ افراد کے بارے میں اس وقت تک اظہار خیال نہیں کیا جاسکتا جب تک ان کا تشخص واضح نہیں ہوجاتا لیکن اسلامی جمہوریہ ایران اور کینیا کے اچھے اور دوستانہ تعلقات کے پیش نظر ایسا نظر آتا ہے کہ بعض حلقے اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ اس طرح کی خبریں اور رپورٹیں نشر کر کے اور الزامات لگا کر دونوں ممالک کے مضبوط اور احترام کی بنیاد پر استوار تعلقات کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ 
اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈالنےکے مقصد سے اس کے خلاف الزامات لگائے جانے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ اور حالیہ چند برسوں کے دوران اس میں شدت پیدا ہوئي ہے۔ 
اگرچہ کینیا میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعات کے پہلو ابھی تک روشن نہیں ہیں لیکن بہت سے قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ اور صیہونی حکومت مہم جوئی کے ذریعے بزعم خویش اسلامی جہموریہ ایران کو سخت صورتحال سے دوچار کرنے کے لۓ ہمیشہ اس طرح کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سناریو ہے جو ایک تیر سے دو شکار کا مترادف ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک جانب ایران پر دہشتگردی کا الزام لگا کر یہ ممالک بزعم خویش اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی ساکھ کے آگے سوالیہ نشان لگانےاور ایران اور دوسرے ممالک کے باہمی تعلقات کو خراب کرنے کے درپے ہیں اور دوسری جانب ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت ایران کے خلاف اپنے دہشتگردانہ اقدامات سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ یورپ نے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے لۓ رائے عامہ کی توجہ حاصل کرنےکے مقصد سے وسیع پیمانے پر نفسیاتی کارروائیاں انجام دیں۔ اور امریکہ نے اسی ذریعے سے افغانستان پر حملے اور پھر عراق پر اپنے قبضے کو جائز ظاہر کیا اور وہ بدستور اسلامی دنیا کو دہشتگردی کا سرچشمہ ظاہر دینے کی کوشش کررہا ہے حالانکہ اسلامی دنیا خود ایسی دہشتگردی کا شکار ہے جس کو یورپ کی حمایت ہے۔
.......
/169